allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




آئینۂ ایام ۔سولہویں قسط
بہت اُن کے نقش قدم یاد آئے
ّّّمیرشجاعت علی خان شجیع معظم جاہ کا دربار

ہندوستان تو۱۵ اگست ۱۹۴۷ ؁ کو آزاد ہوا،لیکن حیدرآباد کی تقدیر کا فیصلہ ہنوز باقی تھا۔۱۷ ستمبر ۱۹۴۸ ؁ تک کا وقفہ حیدرآباد کے لیے بڑی آزمائشوں ،ہنگاموں ،کشمکش اور جد وجہد کا وقت رہا ۔کئی آتش فشاں کمزور پرت کی تلاش میں تھے۔مختلف افکار کی کارفرمائی کو بھی نظر انداز کیا جا سکتا۔کرداروں کے چہرے اور بدلتی ہوئی نقابیں،موسم اور رُت کی طرح بدلتی ہوئی وفاداریاں،دبی ہوئی چنگاریوں کا شعلوں میں بدل جانا یہ سب تو تاریخ کے ابواب ہیں ہی ، جس پر بہت کچھ لکھا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی رہا کہ عیش و نشاط میں مشغول ، امروز فردا کی فکر کے بجائے ’’لمحۂ خواب کی فرصت کو غنیمت جانو‘‘ کے
مصداق ہنوز محو خواب بھی تھے۔
گزشتہ صفحات میں آپ نے ’’بیلا وسٹا‘‘کی کہانی پڑھ لی،ان سطور میں آپ ’’ہل فورٹ‘‘ کی بھی داستان ملاحظہ فرمالیں۔اپنے سینوں میں داستانیں رکھنے والی دیواریں کسی سماعت کی متلاشی رہتی ہیں ۔ ایک ایسی سماعت کی جو کلی کے چٹکنے کی آواز اور اس کی موسیقی کو جذب کر کے اُس موسیقی کے ارتعاش سے اور اس لمحے کے بطن سے نمو پانے والی تاریخ کو ضبط تحریر میں لا سکے۔دیواروں کی یہ داستانیں پر اسرار بھی ہیں ،مسحور کن بھی۔کبھی یہ آوازیں موسیقی ریز ہیںِ توکبھی نوحہ کناں بھی۔ان کے لہجے میں خوشی اور شادمانی کی موسیقیت بھی ہے اور افسردگی،یاس،اداسی اور غم کی کسک وآہ بھی۔ میری پیدائیش سے سترہ سال تک میں اسی تہذیب اور شہر نشینی کے ماحول میں سانس لیتا رہا ،پلتا رہا،بڑھتا رہا،پرورش پاتا رہا،جہاں روایات کی اسیری بھی تھی،ترقی یافتہ افکار کی نمو پذیری بھی،طلسم ہوش ربا بھی،فسانۂ عجائب بھی،پریم چند کی گؤدان اور کفن بھی،میر تقی میرؔ اور غالبؔ بھی،شبیر حسن خان جوش ؔ اور فیض احمد فیضؔ بھی،فانیؔ کا کاشانۂ غم بھی ،مخدومؔ کا چنبیلی کا منڈوا بھی۔ میری یادوں کی چادر میں ایسی ہی بے ترتیب نجوم کی کہکشاں ہے ، جس کی بے ترتیبی ہی حسنِ ترکیب ہے۔اسی لیے میں نے اپنے دور سے پہلے کے عہد کی تصویر کشی کی کہ بدلتے ہوئے زمانوں کے ساتھ اُن کے بدلتے ہوئے رنگ آئینۂ ایام میں صاف نظر آ جائیں اور میری نفسیات کی ساری گرہیں کھل جائیں کہ آئینہ ساز تو آئینے کو جلا بخش دیتا ہے لیکن خود آئینے پر کیا
گذری۔
’’ہل فورٹ‘‘ کی داستان کچھ یوں ہے کہ سر نظامت جنگ جو نواب حکیم الدولہ کے پھوپی زاد تھے‘ وہ بھی حیدرآباد ہائکورٹ میں چیف جسٹس رہے بعد کو وہ سرکار آصفیہ میں وزیر بھی ہوئے۔ 1915 ؁ء میں یعنی’’بیلا وسٹا‘‘کی تعمیر کے دس برس بعد انہیں دمہ کا عارضہ ہوگیا۔طبیب نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی پُرفضا مقام پر رہیں۔انہوں نے حسین ساگر کے قریب ایک بلند و بالا مقام پر صرف سو روپیے میں 15 ایکر زمین خریدی۔ یعنی ایک پیسے میں تقریباََ ڈھائی گز زمین اور اس پر ایک خوبصورت عمارت تعمیر کروائی۔ وہ کیمبرج کے TRINITYکالج کے فارغ التحصیل تھے۔یہ عمارت کچھ تو اس کالج کی مشابہہ ہے اور کچھ سر والٹر اسکاٹ کے ناولوں میں جن ملکوں کا تذکرہ ملتا ہے اس کی تجسیم ہے۔اس عمارت کا نام انہوں نے ’’ہل فورٹ پیلس‘‘ رکھا تھا۔وہ تقریباََ15 برس اس میں مقیم رہے۔1929ء ؁ میں وہ حج بیت اللہ سے فارغ ہوئے تو اس عالیشان محل میں قیام انہیں پسند نہ ہوا کہ جو اللہ کے گھر کا طواف کر کے لوٹے اس کے دل میں تو یادِ الٰہی کا نور ہو۔اب بھلا دنیا سے کیا دل لگے۔ عجیب لوگ تھے وہ بھی۔احرام اختیار کیا تو سمجھ لیا کہ کفن پوش ہوئے اورسوئے الٰہ چل پڑے۔ لوٹے تو یہ سبق پڑھ آئے کہ ’’ساتھ جانا نہیں کچھ‘ جز عملِ نیک انیسؔ ۔‘‘ خواہش و محبت تو کجا، خیال دنیا بھی ترک کیا۔میں سوچوں ہوں‘‘ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔‘‘ اگلے وقتوں کے لوگ ایک مرتبہ حج کر لیتے تھے تو گناہ تو دور‘ اپنا مال، جائیداد سب ترک کر دیتے تھے۔آج سنتا ہوں کہ بعض لوگ حج کر کے لوٹتے ہیں تو پہلے بڑا گناہ کر لیتے ہیں اور پھر حج کر لیتے ہیں۔حج پر حج کر تے ہیں اور گناہ پر گناہ۔نہ طمع چھوٹتی ہے نہ حج چھوٹتا ہے۔ پروردگار تو ہی بتلادے کہ یہ ماجراکیا ہے؟ کون کس پر غالب ہوا؟۔ خیر پر شریا

شر پر خیر۔ تو عالم الغیب ہے ۔ تو ہی جانے ہے تیرے سواکون جانے ہے۔

سر نظامت جنگ نے مکان فروخت کرنے کا رادہ کیا۔آصفِ سابع کو خبر ہوئی تو انہوں نے قیمت دریافت کی۔نظامت جنگ
نے کہا۔’’حضور روشن ضمیرہیں،حو لاگت آئی سو وہی لوں گا، اوپر ایک پائی حرام ہے۔‘‘
ایک لاکھ روپیے میں سے وہ رقم وضعات کروادی جو تعمیر کے دوران قرض لی تھی۔ کل 67000 روپیہ لے کر وہاں سے منتقل ہوگئے۔نارائن گوڑہ میں مقیم ہوئے ۔پھر وہ بھی فی سبیل اللہ وقف کر کے ملکِ عدم کوسدھارے۔ خلقِ خداتو ان کو یاد کرتی ہی ہے۔ہل فورٹ پیلیس کی دیواروں نے بھی ان کو فراموش نہ کیا۔آصفِ سابع نے وہ عمارت اپنے چھوٹے بیٹے میر شجاعت علی خان معظم جاہ، صدر نشین شہری ترقی بورڈ کو سرکاری رہائش بطور دے دی۔ انضمامِ حیدرآباد کے بعد یہ عمارت
حکومت کی تحویل میں چلی گئی ۔
صدق جائسی نے اپنی کتاب دربارِ دُربارمیں معظم جاہ شجیع کے دربار کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔1956ء تک یہ کتاب ریاستِ حیدرآباد میں ممنوع تھی۔میں اس کتاب کو بار ہا پڑھ چکا ہوں۔صدق جائسی صاحب نے تفصیل سے واقعات بیان کیے ہیں۔ نہایت شائستہ اندازِ بیان ہے۔کوئی چوٹ نہیں۔کوئی طنز نہیں۔ کوئی غیر معیاری گفتگو نہیں۔ میں تو کہوں کہ جو نمک ان کا جزوِ بدن ہوا،اس کا انہوں نے خیال رکھا۔وضعدار آدمی تھے۔ ہوشؔ بلگرامی تھوڑی تھے کہ جس تھالی میں کھایااسی میں چھید
کر دیا۔
معظم جاہ کا دربار بھی شب کو آراستہ ہوتا تھا۔ہل فورٹ پیلیس میں یہ اہتمام تھا کہ شب کو روشنی ہوتی تو دن کا سماں ہوتا لیکن چراغ، شمع، قندیل، جھاڑ، فانوس،دو شاخہ کسی کا گذر نہ تھا۔بس ایک ٹھنڈی روشنی ہوا کرتی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ در و دیوار سے روشنی پھوٹ رہی ہو۔اس دربار میں اُمراء، نوابین، شعراء، موسیقی نواز، خوش گلو بلکہ ساز و آواز کے ماہرینِ فن کو مدعو کیا
جاتا۔کبھی کبھی نرت کے ماہرین بھی اپنا فن پیش کیا کرتے تھے۔
معظم جاہ خود بھی شاعر تھے اور شجیع ؔ تخلص کیا کرتے تھے۔ان کی غزل ٹھیٹھ غزل ہی کہی جا سکتی ہے لیکن دلنواز ہوا کرتی تھی۔ حضرت علامہ نجم آفندی سے مشورۂ سخن کیا کرتے تھے۔شعراء میں معاصرانہ چشمک تو آ پ نے سنی ہے۔ ان درباروں میں مصاحبانہ چشمکیں بھی ہوا کرتی تھیں۔جوشؔ تو صدق جائسی کو دربار تک پہنچا گئے۔وہاں فانیؔ بھی تھے۔ ان کی بھی رسائی جوش ؔ ہی کی توسط سے ہوئی تھی۔فانیؔ نے صدق کو دربار کے رموز سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ مصاحبین نہیں ہیں، منافقین ہیں، ان سے خبر دار رہنا۔ عشائیہ میں تمام حاضرین معظم جاہ کے مہمان ہوتے تھے اور ایک ہی ٹیبل پر سب کی کرسیاں سجادی جاتی تھیں۔بیسیوں ملازم صف بستہ اہتمام میں مصروف رہے۔ میں اگر عشائیہ کی تفصیلات لکھنے بیٹھوں تو جانے کتنے صفحات درکار ہوں۔لیکن حضرت معز الدین صاحب ملتانی جو اگر چہ کہ سن میں مجھ سے بڑے تھے لیکن ان کے الطاف مجھ پر کچھ زیادہ ہی تھے۔میں نے مختلف فنون میں ان جیسا ماہرِ فن نہیں دیکھا ۔ وہ ایک اعلیٰ درجے کے شاعر،با کمال گویّے،عمدہ ستار نواز ،علمِ جفر کے ماہر،بنوٹ باز،اکھاڑے کے پہلوان،عروض کے استاد، کئی لسانیات پرعبورِ کامل رکھنے والی شخصیت تھے۔میں نے ایک مدتِ دراز اُن کی صحبت میں گذاری ہے۔آخری دس پندرہ برس انہوں نے گوشہ نشینی میں گزاری۔میں کئی صوفی حضرات سے مل چکا ہوں۔ ہم نشین بھی رہا ، صحبتیں بھی رہیں لیکن تصوف میں حضرت معز الدین ملتانی جیسا با کمال کسی کو نہ پایا۔ان کی صحبت میں کئی رموزِ تصوف جو عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی نہیں کھلتے،مجھ پر آشکار ہوئے۔ تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی۔میری جب ان سے ملاقات ہوئی تب میری عمر کوئی 20،22 برس کے درمیان رہی ہوگی لیکن وہ چالیس سال سے متجاوز ہوچکے تھے۔اس کے بعد بیس برس سے زیادہ میں ان سے قریب رہا۔پہلی مرتبہ میں معظم جاہ شجیع سے ان ہی کے توسط سے ملا۔دراصل حضرت معز الدین صاحب قبلہ سے جو تفصیلات مجھے حاصل ہوئی تھیں اس نے یہ اشتیاق پیدا کر دیا تھا کہ میں
ان سے ملوں ،انہیں دیکھوں ،ان سے بات کروں۔
حضرت معز الدین صاحب نے ہل فورٹ پیلیس کی جو روداد بیان کی ہے وہ کسی طلسماتی دنیا سے کم نہیں۔ان کے پر تکلف دسترخوان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عشائیہ کا آغاز سوپ سے ہوا کرتا تھا۔ پستئی رنگ کا سوپ نہ جانے کن کن اشیا ء کا مرکب ہوتا کہ اشتہاء اور بڑھ جاتی اور اسکے ساتھ ہی سیخ کباب ،بوٹی کباب،کباب چالکی،ستلی کباب،کباب شاہی،ایرانی طرز کے چلو کباب،جگر کباب،ماہی کباب،پسندہ کباب،کباب گولر ، کوفتہ،پھر اس کے بعد نان باقر خانی،نان نازک،نان دل پسند،نان ورقی،قورمہ،مرغِ مسلم،مزبی، بھیڑ مسلم،پتھر کا گوشت،دم کا قیمہ،تلا ہوا گوشت،بھونا گوشت،ماہی قلیہ،اور نہ جانے کتنے انواع و اقسام کے ذائقے۔بریانی تو یوں بھی حیدرآباد پر تمام ہے۔بقول پروفیسر آغا حیدر حسن صاحب’’جو لذت یہاں کے الٹے پیر میں پکاوے سو آوے،وہ اور جگہ کے سیدھے ہاتھ سے پکاوے میں نہ آوے۔‘‘ لیکن معظم جاہ کے مطبخ کے طباخوں نے جو تنوع پیدا کیا تھا وہ پھر چکھنے میں تو کجا، سننے میں نہ آیا۔خام بریانی،یخنی بریانی،بریانی آسمان جاہی،بریانی محبوب پسند ،دلہن بریانی،کوفتہ بریانی،بریانی چہار گوشتہ، دم بریانی،کھچڑی ایسی کہ بادام تراش کر چاول اور پستہ تراش کر مونگ،گھی میں تر بتر ،زعفران سے مہکی ہوئی،ادھر چمچہ بھر دہن میں رکھا یعنی کہ مشامِ جاں کو معطر کر گئی۔دلہن بریانی میں تو
مشک و عنبر بھی استعمال ہوتا تھا۔
ایک شام موسم خوشگوار ہوگیا تھا۔جنوب مغرب سے تیتر کے پروں کے رنگ کی بدلی جو اٹھی تو گویا ہوا کے سر پر سرمئ اوڑھنی نے اسے بھی مستِ ناز کیا ۔ پرنس نے کہا’’آج ڈنر لان پر ہوگا‘‘۔ وسیع سبزہ زار پر میز سجائی گئی۔ڈنر پر پرنسس نیلو فر بھی موجود تھیں۔ابھی آغازِ طعام ہوا ہی تھا کہ بوندا باندی شروع ہوگئی۔ معظم جاہ نے پرنسس سے کہا آپ اپنا ڈنر اندر منگوالیں،آپ بھیگ جائیں گی۔وہ جاتے جاتے شاید بادل کو اشارہ دے گئیں۔اب جو گھٹا برسی تو جھوم کر برسی۔مگر پرنس ایسے اطمینان سے سوپ ملاحظہ فرماتے رہے جیسے انہیں اس طوفانی بارش کی خبر ہی نہ ہوئی ہو۔قاب پانی سے بھر گئے۔بوٹیاں سفید پڑ گئیں، بادام کے لوز اور دل بادل بالائی نے منہ بسور لیا۔ لیکن پرنس آرام سے خاصہ نوش فرماتے رہے۔مصاحبین کا عالم یہ تھا شیروانیاں تو شرابور تھیں ہی، پاجامہ کے پائینچوں پر، پر نالے جاری تھے۔مگر کیا مجال جو حرفِ شکایت زباں پر ہو۔کوئی نصف گھنٹے بعدسیلقچی اور آفتابہ پیش ہوا اور پرنس نے ہاتھ دھوئے ۔ تو دل نا تواں نے کہا زندگی سے ہاتھ دھونے کی گھڑی ٹل گئی۔پرنس تو اندر تشریف لے گئے۔مصاحبین کمرۂ ملاقات میں چلے آئے۔کوئی ایک گھنٹہ بعد ملازم نے خبر دی کہ پرنس بر آمد ہوا چاہتے ہیں تو چاروناچار سب دربار میں پہنچے اور مشاعرہ شروع ہوا۔فانیؔ نے چپکے سے صدقؔ سے کہا ’’دیکھی ایذار
سانی؟۔‘‘
مشاعرہ تو وہ برائے نام تھا ورنہ کلام تو صرف پرنس کا ہوتا اور وہ بھی ساز پر۔ہر مصرعہ پر داد و تحسین کا وہ غلغلہ اٹھتا کہ خدا کی پناہ۔ہر شخص دوسرے پرفوقیت لے جانے کامتمنی رہتا اور بعض پر تو وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی اور بعض تو عالمِ بے خودی میں اپنا گریباں چاک کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔جس ڈنر کا میں نے تذکرہ کیا اس روز فانیؔ اپنا جیبی پاندان اور بٹوہ بھول آئے۔ کچھ تو بھیگے ہوئے بھی تھے اور پھر پان ندارد۔پرنس نے فانیؔ کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا ’’کیوں فانیؔ ! آج چپ چپ سے ہو اور جگالی بھی نہیں کر رہے ہو۔‘‘فانی اس پرسش پر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ خمیدہ ہو کر سات سلام بجا لائے اور کہا’’حضور! بس غفلت ہوگئی،میں پان گھر پر بھول آیا۔‘‘پرنس نے خادم پر نگاہ کی ،وہ سلام بجا لاکر الٹے قدم پیچھے ہٹا اور بس پلک جھپکتے ہی کوئی سو، سواسو گلوریوں سے سجا چاندی کا تھال اوربیچوں بیچ عنبری قوام کی شیشی لے آیا اور درمیان میں رکھ کر لوٹ گیا۔عنبری قوام ہو،زمردی گلوریاں ،سونے چاندی کے ورق لپٹے ہوئے ،مگر فانیؔ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔پرنس کے دربار میں یہ سوئے ادب تھاکہ جب تک کہ پرنس خود ملاحظہ نہ فرمالیں یا پھر کم از کم اشارہ نہ کریں کوئی اپنی مرضی سے دست درازی نہ کر سکتا تھا۔چاروناچار کوئی چار بجے ملازم خاص نے ڈائنا فام کی دو گولیاں اورآبِ خاص خدمت میں پیش کیا جب پرنس ملاحظہ فرما چکے تو دربار کی برخواستگی کا اعلان ہوا۔ ڈائنا فام اس زمانے میں نیند کی دوا تھی۔ایک گولی کسی ہاتھی کو بارہ گھنٹے سلائے رکھنے کے لیے کافی تھی اور پرنس ایسی دو گولیاں کھا کر آرام فرمایا کرتے تھے۔دربار سے باہر آکر جب کھلی ہوا محسوس ہوئی تو فانیؔ نے طشت میں سجی گلوریوں میں کی ایک منہ میں رکھ لی۔دیر تک خاموش رہے تو صدق جائسی نے پوچھا’’خیر تو ہے تم تو گم سم سے ہوگئے۔‘‘فانیؔ نے اشارے سے رکنے کو کہا۔پھر چند منٹ بعد خود ہی کہا۔’’صدقؔ ! آج تو ظالم نے انتہا کردی۔ آدمی کتنا بے بس ہوجاتا ہے۔اس کی اپنی مرضی تک دوسرے اختیار میں دے دیتا ہے۔خود کچھ نہیں رہ جاتا اور نہ کچھ اس کا رہ جاتا ہے۔نہ شب نہ روز،نہ وقت،نہ سوچ،نہ فکر،نہ گھر،نہ راستہ،ہزار دکھ ہوں،غموں کی بھیڑ ہو مگر ہونٹوں پر تبسم سجائے رکھنا کہ یہ محفل آہ ،آنسو،دکھ،غم،پریشانی کے اظہار کی نہیں ہوتی۔یہاں سب کچھ مصنوعی ہے۔ حسن بھی ، عشق بھی، ہجر بھی، وصال بھی، یہاں ہنسی اور داد و تحسین کی فصل بھی مصنوعی ہے۔ سب اپنے اپنے گھر سے نکلتےہوئے اپنا چہرہ گھر ہی پر چھوڑ آتے ہیں
،صرف نقاب ساتھ لے آتے ہیں۔یہاں زندگی نقاب ہے۔صرف نقاب۔۔۔۔‘‘
ہر نَفَس عمر گذشتہ کی ہے میت فانیؔ
زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
صدقؔ نے کہا’’تم اتنے بے آرام ہو تو اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟۔‘‘ فانیؔ نے کہا’’میں!مجھے تو مدت ہوئی یہاں آئے ہوئے،تم تو ابھی آئے ہو۔ یہاں سے تو اب تم بھی نہیں چھوٹ سکتے۔روزانہ ۵ بجے گاڑی آجاتی ہے کہ پرنس نے یاد فرمایا ہے۔اس کے بعد کی روداد تو تم دیکھ ہی چکے ہو۔اس شب بیداری کے بعد دن میں بھلا کیا ہوسکتا ہے۔۹بجے اسکول جانا ہوتا ہے،شب کا خمار ،دن بوجھل بوجھل سا ابھی گذرا ہی چاہتا ہے کہ پھرطلبی ہوگئی۔صحت تو برباد ہو ہی رہی ہے لیکن زندگی عمرِ رائیگاں سی ہوگئی۔‘‘وہ کچھ دیر رکے پھر آہستہ سے کہا‘‘ سچ پوچھو تو سارا قصور میرا ہے۔میں مجلسی مزاج کا آدمی ہوں۔کچھ دن تو مجھے بہت اچھے معلوم ہوئے ۔اس کے بعد تو مجھے اس کی ’’لت‘‘ لگ گئی۔اب نہ دربار مجھے چھوڑتا ہے اور نہ مجھ سے چھوٹا
جائے ہے۔‘‘ گاڑی تیار تھی ، دونوں اپنے اپنے گھر رخصت ہوئے۔
رمضان کے مہینے میں دربار صرف ڈنر کی حدتک ہوا کرتا تھا۔مشاعرہ اور موسیقی موقوف ہوجاتی تھی۔البتہ دس رمضان کے بعد پرنس جان برٹن کی دوکان پر سکندرآباد جایا کرتے تھے۔جہاں وہ اپنے تمام مصاحبین کے لیے شیروانی پسند کرتے تھے۔ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ جو کپڑا پسند کرتے تھے اس کا تھان خرید لیا کرتے تھے۔جب تک پرنس دوکان میں تشریف فرماہوں کوئی دوسرا گاہک دوکان میں خریداری نہ کر سکتا تھا۔البتہ برطانوی عہدیداروں کی بیگمات کے لیے استثناء تھا۔ جشنِ عید کی تیاری پہلے ہی شروع کردی جاتی۔شہر شہر سے طائفے بلوائے جاتے ۔ ان کے لیے الگ الگ رہائش، سواریاں،مطبخ،غرض بہت وسیع انتظامات کیے جاتے۔صدق جائسی نے بہت تفصیل سے اس جشن کا تذکرہ کیا ہے۔میں لکھوں تو ایک الگ کتاب ہوجائے۔عید ہی کے کسی موقع پر آصفِ ِ سابع اپنے والد میر محبوب علی خان کی دو قیمتی شیروانیاں اعظم جاہ اور معظم جاہ کو روانہ فرمائیں کہ وہ عید کے دن اسی پوشاک میں سلام کے لیے حاضر ہوں۔ اعظم جاہ نے تو سر پر رکھ کر اور آنکھوں سے لگا کر رکھ لی لیکن معظم جاہ نے پھاڑ کر پھینک دی اور کہا کہ’’میں نہیں پہنوں گا۔‘‘نظام کو خبر ہوئی تو تو فوراََ طلبی ہوئی ۔ جب معظم جاہ نظام کی خدمت میں پیش ہوئے تو انہوں نے گرج کر کہا کہ ’’تمہاری یہ مجال کہ میری بھیجی ہوئی شیروانی کو جو میرے والد کی تھی اسے رد کردو۔ ہم اسے تمہاری شدید گستاخی پر محمول کرتے ہیں۔ کوئی عذر ہے تمہارے پاس کہ تم
ہماری عدول حکمی کرو۔ ‘‘
معظم جاہ نے نہایت ادب اور ٹھنڈے لہجے میں کہا’’میں عید کو پرانی شیر وانی نہیں پہنوں گا۔ حضور جو سزا چاہیں مجھے قبول ہے
لیکن پرانی شیروانی پہننا قبول نہیں۔ ‘‘
نظام نے کڑک کر کہا’’کیوں نہیں پہنو گے؟۔ میں خود پہنتا ہوں۔بھلا تم کو کیا عذر ہوسکتا ہے۔‘‘
معظم جاہ نے کہا : ’’ بے شک ! حضور پہن سکتے ہیں لیکن میں اسے بد شگونی سمجھتا ہوں۔ ‘‘
’’بد شگونی! ۔کیسی بد شگونی ؟‘‘۔ ’’تم ہوش میں تو ہو ؟‘‘ ۔
معظم جاہ نے پھر اسی تھنڈے لہجے میں کہا: ’’ حضور گستاخی معاف فرمائیں تو عرض کروں۔ حضور یتیم ہیں۔ میرے سر پر آپ
کا سایہ سلامت ہے۔ خد ااسے تاقیامِ شمس و قمر سلامت رکھے۔ ‘‘ ’’دل صاحبِ انصاف سے انصاف طلب ہے۔ بھلا میں باپ
کی زندگی میں یتیموں کا لباس کیسے پہن سکتا ہوں؟۔‘‘
نظام فوراً نرم پڑ گئے۔ لہجے کی کرختگی فوراً کافور ہو گئی۔ ایک تاجدار باپ بن گیا۔ غور سے بیٹے کو دیکھا پھر کہا: ’’کیا چاہتے
ہو۔کوئی خواہش؟۔ ‘‘
معظم جاہ نے سر خم کر کے کہا:’’ جی! صرف اتنا کہ آپ اپنا دستِ شفقت میرے سر پر رکھ دیں۔ اس کے آگے دولتِ ہفت
اقلیم ہیچ ہے۔ ‘‘
نظام نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ سر پر رکھا اور چہرے کا رخ بدل دیا۔ بادشاہ آنسو نہیں دکھا سکتا ۔ باپ آنسو نہیں چھپا سکتا۔دوسرے
دن نظام نے معظم جاہ کے پاسپچاس ہزار روپیئے روانہ کر دیئے۔
عظم جاہ کی شادی ترک شہزادی نیلوفر سے ہوئی۔ وہ خلافتِ عثمانیہ کے آخری خلیفہ عبد المجید کی بھتیجی تھیں اور شہزادی درِ شہوار سے ایک سال چھوٹی تھیں۔ دونوں بہنوں کی شادی دونوں بھائیوں اعظم جاہ اور معظم جاہ سے ایک ہی دن ، وقت اور مقام پر ہوئی تھی۔ شادی کے وقت ان کی عمر سوالہ برس تھی۔ میں نے انہیں بارہا دیکھا ہے۔ دراز قد ، ہلکا سرخی مائل سفید رنگ، جھیل جیسی گہری آنکھیں ، ستواں ناک، میر کا مصرعہ ’’پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے‘۔‘ بس ان ہی کے لب پر صادق آتا تھا ۔آئینے کے مقابل بن سنور کر کھڑی ہو جاتی تھیں اور اپنے سراپے کو دیکھ کرخود شرما جاتیں اور
کبھی یوں کہ ،
انداز اپناآئینے میں دیکھتے ہیں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
اور جو کبھی زیور پہن کر سج دھج گئیں تو مسکرا کر خود سے کہہ لیا،
بندیا وندیا ،بالا والا،جھومر وومر ،کیا
چہرہ تیرا زیور جیسا تجھ کو زیور کیا
رُوئے گل،ُ خوابِ گل، شاخِ گل، بوئے گل ، رنگِ گل ، رگِ گل ،یہ تمام ترکیبیں اردو شاعری میں ہیں تو سہی، لیکن وہ تو آتشِ گل تھیں۔اس پر قیامت یہ کہ وہ محفلوں میں شریک بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے حسنِ جہاں سوز کے تذکرے شام ڈھلے کی محفلوں میں اکثر ہوا کرتے تھے ۔ اور آتش تو خرمنِ دل میں آگ لگادیتی ہے، لیکن اس آتشِ گل نے سارے چمن کو زد میں لے رکھا تھا اور خود شاخِ گل پر ’’میں تو یہ آگ لگانے کو نہیں آئی تھی‘‘ کی صورت رہیں ، آخر کو نیلوفر تھیں۔ انہیں اپنے حسن کا احساس تھا ۔ حسن خود ہی قیامت ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد اُسے اپنے حسن کا احساس بھی ہو تو مغرور ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے فتح کرلے تو انا‘ وفا کی بانہوں میں سمو جائے۔ اس کے بعد تو سپردگی کا نشہ کبھی ٹوٹنے نہیں پاتا کہ شکستہ ہوتو عزیز تر
ہے نگاہِ آئینہ ساز میں۔

ایک اور نفسیات یہ بھی ہے کہ رعبِ حسن اگر مقابل پر طاری ہو جائے تو ’’خود سری‘‘ اور ’’خیرہ سری‘‘ محال ہو جاتی ہے۔ پھر تو نہ خرد رہا، نہ جنوں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی۔ معظم جاہ اور شہزادی نیلوفر 21برس رشتۂ ازدواج میں بندھے رہے۔ ایک دن معظم جاہ محل سرا میں داخل ہوئے تو شہزادی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ معظم جاہ رو برو کھڑے تھے۔ بہت قریب، بہت ہی قریب۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ زمین کی نظریں اٹھی ہوئی تھیں لیکن آسمان کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ دونوں میں
طلاق ہو گئی۔
بیگم نیلوفر کی ایک خاص ملازم تھی، ’’رفعت النساء، وہی زیادہ تر خدمت میں رہتی تھی۔ وضعِ حمل کے دوران مر گئی۔ بیگم صاحبہ کو اطلاع ملی تو بہت ملول ہو گئیں۔ پھر نہ جانے کیا سوچ کر کہا:’’ اب کوئی رفعت النساء نہیں مرے گی۔‘‘ انہوں نے نواب مہدی نواز جنگ سے ربط پیدا کیا۔ نظام سے اجازت لی اور نیلوفر دوا خانہ برائے نسواں تعمیر کروادیا۔ آج تک باب الداخلہ پر ان کی خوبصورت تصویر اپنے دونوں ہاتھوں پر رخسار رکھے ، آویزاں ہے۔ وہی ’’پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔‘‘ نہ رُخ گل، نہ خوابِ گل، نہ شاخِ گل، نہ رنگِ گل ، نہ رگِ گل نہ بوئے گل، بلکہ آتشِ گل۔ موت کی سردی میں زندگی کی حرارت
پھونکنے والی آتشِ گل۔ آخر کو نیلوفر تھیں ناں۔
ان کے بعد معظم جاہ نے رضیہ بیگم سے عقد کیا۔ ان سے تین لڑکیاں فاطمہ فوزیہ، آمنہ مرضیہ اور کلثوم تولد ہوئیں۔ نظام نے معظم جاہ کے لیے صاحبزادی انوری بیگم کا رشتہ پسند کیا۔ پرنسس نیلوفر کے بعد یہ دوسری خوبصورت خاتون تھیں ۔ صورت شکل میں بھی، اخلاق و کردار میں بھی۔ ان سے شہامت جاہ اور سکینہ بیگم تولد ہوئیں۔ آخری وقتوں میں پرنس معظم جاہ فرن وِلا میں مقیم رہے اور وہیں سے راہی عدم ہوئے۔ کبھی کبھی وہ اپنے محل سے نکل کر چمن میں چہل قدمی کرتے ہوئے رک جایا کرتے تھے اور دیر تک خلا میں تکتے تھے ۔ کہتے کچھ نہیں تھے لیکن ان کی خاموشی یہ کہتی تھی: شجیع آج سیرِ چمن کو گئے تھے ۔ بہت اُن کے نقش قدم یاد آئے

نہ رُخ گُل ، نہ خواب گُل بلکہ آتش گُل ۔۔۔۔ پرنسس نیلوفر






***